بازغہ دھرو،علی گڑھ

کووڈ۔۱۹ سے وحشت زدہ،ْ سہمی، سسکتی دنیا پر سایہ فگن ماہ رمضان المبارک اپنی تمام تر رحمتوں، برکتوں اور رب لایموت کی صدائے شان کریمی کے ساتھ رخصت ہو رہا ہے۔ وہ صدائے رحیمانہ جو ہر رات کے تیسرے پہر آسمان دنیا سے ہوتی ہوئی زمین کے چپے چپے میں گونجتی ہے ’’ہے کوئی استغفار کرنے والا کہ اسے بخش دوں ہے کوئی جنت کا طلب گار کہ اسے جنت عطا کروں ہے کوئی جہنم سے خلاصی کا خواستگار کہ اسے نجات عطا کروں‘‘۔خالی مسجدوں کے بلند وبالا عظیم الشان گنبد ومینار، کشادہ صحن، خالی صفوں کے ساتھ سجدوں کو ترس گئے ہیں۔ مسجد کے دروازوں پر پڑے تالے نمازیوں کی آمد کے منتظر ہیں۔گلی گلی اور کوچہ کوچہ وحشت وتنہائی کا دور دورہ ہے۔ سڑکوں اور بازاروں میں شہر خموشاں کا سا سناٹا ہے۔ ایسے میں گرمی کی تپتی دوپہر کہیں دور کسی اندھی گلی سے کسی پھل یا سبزی بیچنے والے ہاکر کی کانپتی آواز سنائی دیتی ہے جس کی آنکھوں میں اپنے بچوں کے بھوک سے مرجھائے چہرے اور شام کی افطاری کی فکر جھلکتی ہے۔ دوکاندار گلی گلی گھوم رہے ہیں اور خریدار ندارد ہیں۔
گنتی کے چند دن باقی ہیں اور ہلال عید کا پر نور چہرہ بادلوں کی اوٹ سے نمودار ہونے کو ہے۔ زمین وآسمان وہی ہیں چاند وسورج وہی ہیں صبح وشام کا سلسلہ ویسا ہی ہے۔ سَبَّح لِلّٰہِ مٰافی السَّمٰواتِ وَمٰا فِی الْاَرْضِ۔۔ لیکن!
عالم انسانیت، اپنے رب کی باغی اور سرکش ہو چکی ہے انسانیت بلبلا رہی ہے۔ آہ! اے ہلال عید آ۔ تجھ سے گلے مل لیں کہ ہم اپنوں سے معانقہ کے لیے ترس گئے ہیں۔
اے ملت اسلامیہ! دنیا کے کونے کونے اور چپے چپے میں بسنے والے مسلمان مرد عورت بچے اور بوڑھے سب آنے والے ہلال عید کے استقبال کے لیے تیار ہو جائیں۔ پیشانی پر سجدوں کے گرم نشان، روح کی گہرائی میں عبودیت اور دل میں احساس شرمندگی اور زباں سے ہر لمحہ استغفار کا ورد کرتے ہوئے اس انوکھے رمضان مں جبکہ دنیا سے کاٹ دیے گئے ہیں ہم نے رات کی تنہائیوں میں خوفِ خدائے رب ذو جلال کو دیکھا بھی اور محسوس بھی کیا ہے۔اے غافل مسلمانو! اب تک زندگی میں آنے والی ہر سال رمضان میں لیلۃ الجائزہ ہماری غفلتوں کی نذر ہوگئی۔ یہ مبارک رات بازاروں مہندی کے نقش و نگار نت نئے ڈریس کی کاٹ چھانٹ اور در ودیوار کو سجانے اور سنوارنے میں گزرتی رہی ہے۔ اس سال ۲۰۲۰ میں لیلۃ الجائزہ کو احساس تشکر سجدوں میں ابھرتی سسکیوں لبوں پر استغفار اور دعائے نجات مانگتے ہوئے درِ رحمت پر گڑگڑاتے ہوئے گزاریں۔ اے اللہ بخش دے ہم گناہ گاروں کو اے ہمارے رب ہمیں اعتراف ہے اپنی گستاخیوں اور سرکشیوں کا۔
ایجادات اور اختراعات پر نازاں گلوبل دنیا اپنے خول میں ایسی سمٹ گئی تھی کہ لوگ والے ایک دوسرے کے چہرے دیکھنے کے تک روادار نہ رہے تھے۔
اونچی فلک بوس عمارتوں، کالونیوں اور سرحدوں پر دربان تعینات کردیے گئے تھے کہ کوئی وہاں دم نہ مار سکے۔
رب العالمین نے ایک ہی جھٹکے میں ایسی دنیا کا نظارہ کرادیا کہ ایک دوسرے کے چہرے دیکھنے اور ملنے کو ترس گئے ہیں۔ اپنے کو Introvert (خود پسند) کہنے والے اپنے خالی اندرون سے گھبرا گئے ہیں۔ بازار اور مارکیٹ کو دست غیب نے ایسا ویران کردیا کہ بڑے بڑے سرمایہ دار دہل گئے ہیں۔ فَاعْتَبِرُوا یا أُولِی الْأَبْصَارِ۔
اس لاک ڈاون میں ایک در کھلا ہوا ہے جس کو دنیا والوں نے اپنے اوپر بند کر لیا تھا۔ غافل امت مسلمہ صدیوں سے سمجھانے اور جھنجھوڑنے کے باوجود سمجھ نہیں رہی تھی۔ ہاں! محسوس کیا ہم نے اپنے اوپر رمضان المبارک کے ان انعامات، حسنات اور برکات کو۔
۲۰۲۰ کا ماہ رمضان تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اے ہلال عید! آ کہ ہم متقی، خدا ترس، سرشار ہوکر رحمن کے بندے بن کر تیرا استقبال کرنے کے لے بے قرار ہیں۔
اے ہلال عید! تو ہم سب کے لیے خوشی، نجات اور مژدہ نو کا پیغام بن کر آ کہ تیرا رب میرا رب ایک، تیرا دین میرا دین ایک، اے ہلال عید! ہم کہ ترس گئے ہیں مصافحہ کے لیے معانقہ کے لیے آکہ تجھ سے ہی گلے مل کے کہیں تقبل اللہ منا ومنکم



https://ift.tt/eA8V8J