مجتبیٰ فاروق،حیدرآباد

اللہ کے بعض نیک اور برگزیدہ بندوں کو بھی بعض مرتبہ اپنی زندگی کا کچھ حصہ تنہائیوں میں گزارنا پڑا جسے انہوں نے اپنے خالق ومعبود سے مزید قریب ہونے کا موقع سمجھا اور وہاں سے نکل کر دنیا میں خدائے واحد کی بندگی پر مبنی معاشرے کی تشکیل کے لیے منصوبہ بندی کرتے رہے۔ ذیل میں ایسی چند مثالیں پیش کی جا رہی ہیں۔
حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالٰی کے ایک برگزیدہ پیغمبر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی قوم کی رہنمائی کے لیے بھیجا تھا انہوں نے اپنی قوم کو کئی سال تک اللہ کی وحدانیت اور بندگی کی طرف بلایا لیکن ان کی قوم نے ان کی دعوت کو خاطر میں نہیں لایا۔ حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کے رویے سے تنگ آکر اللہ کے اذن کے بغیر ہی وہاں سے چل دیے تھے اور سمندر کو عبور کرنے کے لیے ایک کشتی میں سوار ہوگئے۔ کشتی سمندر کے بیچ میں طوفان کی زد میں آگئی۔ اُس دور میں جب کوئی غلام اپنے مالک کی غلامی سے نکل بھاگے اور کشتی میں سوار ہو جائے تو کشتی اس وقت تک کنارے پر نہیں پہنچتی تھی جب تک اس بھاگے ہوئے غلام کو کشتی سے اتار نہیں لیا جاتا۔ چنانچہ اس رواج کے مطابق جہاز رانوں نے قرعہ ڈالا جو حضرت یونس علیہ السلام کے نام نکلا۔ قرعہ تین بار ڈالا گیا اور تینوں بار وہ حضرت یونس علیہ السلام کے نام نکلا۔حضرت یونس علیہ السلام آغاز ہی سے کہہ رہے تھے کہ میں ہی وہ غلام ہوں جو اپنے مالک سے اجازت کے بغیر نکل بھاگا ہوں۔ اس کے بعد آپ نے خود ہی سمندر میں چھلانگ لگا دی تاکہ کشتی میں سوار دوسرے لوگ کنارے پر پہنچ جائیں۔ اسی دوران ایک مچھلی نے حضرت یونس علیہ السلام کو نگل لیا۔ اس کا تذکرہ قرآن میں یوں ہے:
وَذَا ٱلنُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَٰضِبٗا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقۡدِرَ عَلَیۡهِ فَنَادَىٰ فِی ٱلظُّلُمَٰتِ أَن لَّآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنتَ سُبۡحَٰنَكَ إِنِّی كُنتُ مِنَ ٱلظَّٰلِمِینَ (الانبیاء87)
اور مچھلی والے کو بھی ہم نے نوازا یاد کرو جبکہ وہ بگڑ کر چلا گیا تھا اور سمجھا تھا کہ ہم اس پر گرفت نہ کریں گے آخر کو اُس نے تاریکیوں میں پکارا "نہیں ہے کوئی خدا مگر تُو، پاک ہے تیری ذات، بے شک میں نے قصور کیا”
اس آیت میں ظلمات کا لفظ وارد ہے جو ظلمت کی جمع ہے جس کے معنی اندھیرے کے ہیں۔
دعوت کے محاذ کو ادھورا چھوڑنے پر اللہ تعالٰی نے حضرت یونس علیہ السلام کو تین اندھیروں میں محصور کر دیا
1- سمندر کا اندھیرا
2- دنیا کی ظلمات
3- مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا
دعوت کے محاذ کو چھوڑنے پر ایک عظیم پیغمبر کو اتنی بڑی سزا دی گئی ہے تو سوچنے کی بات ہے کہ ہمارا کیا حال ہوگا؟ مولانا وحید الدین خان کی یہ بات بہت ہی قابل غور ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے دعوت کے محاذ کو صرف تکمیل سے پہلے چھوڑا تو ان کےساتھ یہ معاملہ پیش آیا پھر ان وارثینِ پیغمبر کا کیا انجام ہوگا جو دعوت کے محاذ کو یکسر چھوڑے ہوئے ہیں؟
حضرت یوسف علیہ السلام کا تنہائیوں میں دعوتی کام
حضرت یوسف علیہ السلام کا تذکرہ قرآن مجید میں 34 مرتبہ آیا ہے نیز قرآن میں آپ کے نام کی ایک مکمل سورت موجود ہے جس میں تفصیل سے آپ کی زندگی، پیغمبرانہ مشن اور ان کے دعوتی سفر کی روداد بیان کی گئی ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے اسوہ میں عظیم عبرتیں، نصائح اور بے نظیر بصیرتیں پنہاں ہیں۔ قرآن میں ان کا ایک واقعہ زندان کے ساتھیوں کو دعوتِ توحید دینا بھی بیان کیا گیا ہے۔ جب حکومتِ وقت نے انہیں قید خانے میں ڈال دیا تو انہوں نے جیل کی تنہائیوں میں اپنے دو ساتھیوں کو جو ایک طویل عرصے سے جیل میں قید تھے دعوتِ توحید دی اور انہیں معبودِ برحق اور اس کے خالق ہونے کے متعلق تفکر وتدبر کرنے اور عقل سے کام لینے پر اُبھارا۔ قرآنِ مجید میں اس کی تفصیل یوں ہے:
یٰصَاحِبَی السِّجْنِ ئَ اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیرٌ اَمِ اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَھَّارُ – مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلَّآ اَسْمَآئً سَمَّیتُمُوْھَآ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُکُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰہُ بِھَا مِنْ سُلْطٰنٍ (یوسف:39)
اے میرے جیل کے ساتھیو، تم خود ہی سوچو کہ بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہے؟ اس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کر رہے ہو وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آبا واجداد نے رکھ لیے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کی کوئی دلیل نازل نہیں کی۔
اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے تنہائیوں میں بھی دعوت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ تنہائیوں اور فرصت کے ایام میں یہ ایک بہترین موقع ہے کہ اپنوں کو توحید کی دعوت اور اللہ کے پیغام سے آگاہ کیا جائے۔
حضرت مریم علیھا السلام کا تنہائی اختیار کرنا اور اس کے فوائد
کچھ عرصہ تنہائی میں رہنا اور بھیڑ باڑ اور سماج سے الگ تھلگ رہنا بھی شخصیت کی ارتقاء کے لیے ضروری ہے۔ نیز یہ روح کی تسکین اور اپنوں سے تعلقات مضبوط کرنے کے لیے بھی کار آمد ہے۔ تنہائی میں رہ کر انسان کو سوچنے سمجھنے غور وفکر اور منصوبہ بندی کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ انسان اپنے خالق حقیقی سے اپنا رشتہ بھی مستحکم کر لیتا ہے۔ یہاں حضرت مریم علیھا السلام کی مثال پیش کی جا سکتی ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے آپ کو سماج سے الگ تھلگ کر کے ایک بڑا کارنامہ انجام دیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَاذۡكُرۡ فِى الۡـكِتٰبِ مَرۡیمَۘ اِذِ انْتَبَذَتۡ مِنۡ اَهۡلِهَا مَكَانًا شَرۡقِیا (سورہ مریم :۱۸)
اے نبیﷺ، اس کتاب میں مریم کا حال بیان کرو، جبکہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر شرقی مکان میں گوشہ نشین ہو گئی تھی۔
یعنی حضرت مریم وہاں سے خاموشی کے ساتھ ہیکل سے نکلیں اور بیتِ اللحم چلی گئیں اور کچھ عرصے کے لیے گوشہ نشینی (Seclusion) اختیار کر لی۔ ان کی یہ علیحدگی ایک مقصد کے حصول کے لیے تھی۔
مذکورہ آیت میں لفظ انتبذت وارد ہے جس کے معنی یکسوئی حاصل کرنے کے ہیں۔یکسوئی اور تنہائی ہر اہم کام کے لیے ضروری ہے۔
اُس یکسوئی اور تنہائی کے دوران حضرت مریم کو فرشتہ نے ایک لڑکے کی بشارت سنائی۔ حضرت مریم نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کیسے ممکن ہے جب کہ آج تک مجھے کسی مرد نے چھوا تک نہیں؟ اس پر فرشتے نے کہا کہ ’’ایسا ہی ہوگا، تیرا رب فرماتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لیے بہت آسان ہے اور ہم یہ اس لیے کریں گے کہ اُس لڑکے کو لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں اور اپنی جانب سے ایک رحمت اور یہ کام ہو کر رہنا ہے‘‘(مریم : 20)
یعنی اس تنہائی میں رہ کر نوع انسانیت کو دو فائدے ملے ہیں ایک یہ کہ حضرت مریم کے بطن سے جو لڑکا پیدا ہوا وہ لوگوں کے لیے ایک نشانی کے طور پر عطا کیا گیا دوسرا یہ ہے کہ یہ تنہائی بعد میں رحمت کے طور پر سامنے آئی۔
اصحاب کہف کا معاملہ
قرآن مجید میں کئی جگہوں پر نو جوانوں کا تذکرہ کیا گیا اور ان کے کرادر اور مثبت رول کو خوب سراہا گیا۔ اس تعلق سے قرآن میں اصحاب کہف کا ذکر تفصیل کے ساتھ کیا گیا کہ وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لے آئے اور اس کا اعلان کیا تھا۔
ان نوجوانوں کا ایمان غیر متزلزل تھا اور بے دین تہذیب میں ان کا رول نمایاں تھا لیکن جب اس خدا بیزار سماج میں ان پر مصیبتیں آن پڑیں اور انہیں بہت سی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا نیز دن بہ دن ان کے لیے حالات ناساز گار ہوتے چلے گئے تب ان ان نوجوانوں نے سماج سے الگ تھلگ اور گوشہ نشین ہونے کا فیصلہ کیا۔ یہ اتنا بہترین فیصلہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اس کا تذکرہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے
وَاِذِ اعۡتَزَلۡـتُمُوۡهُمۡ وَمَا یعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاۡوٗۤا اِلَى الۡـكَهۡفِ ینۡشُرۡ لَـكُمۡ رَبُّكُمۡ مِّنۡ رَّحۡمَتِهٖ وَیهَیئۡ لَـكُمۡ مِّنۡ اَمۡرِكُمۡ مِّرۡفَقًا (الکہف:16)
اور جب تم لوگ ان سے الگ ہوگئے ہو اور ان باطل معبودوں سے جن کی وہ اللہ کے سوا عبات کرتے ہیں تو چلو اب فلاں غار میں چل کر پناہ لو تمہارا رب تم پر اپنی رحمت کا دامن وسیع کرے گا اور تمہارے کام کے لیے سر وسامان مہیا کر دے گا۔
یہ گوشہ نشینی ان کے لیے نہایت مفید اور اطمینان بخش ثابت ہوئی۔ ایک یہ کہ ان کے لیے یہ رحمت کا باعث بن گئی اور دوسری یہ کہ مستقبل میں ان کے لیے دنیا کشادہ بن گئی۔ ان نو جوانوں نے اللہ کی خاطر سماج سے علحیدگی اختیار کر لی جس کا مقصد یہ تھا کہ حالات صحیح اور سازگار ہونے پر وہ سماج سے پھر سے جڑ جائیں گے اور نوع انسانیت کے لیے نفع بخش ثابت ہوں گے اور اس گوشہ نشینی کے دوران اپنے معبودِ حقیقی سے تعلق مضبوط کریں گے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ کوئی بھی نوجوان جب کچھ عرصے کے لیے لوگوں سے الگ ہو کر اپنے خالق سے تعلق پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ خالق سے نہایت قریب ہو جاتا ہے۔ اس طرح کا تعلق پیدا کرنے کا آج ہمارے لیے سنہری موقع ہے۔
اللہ کے رسول ﷺ کی تنہائیاں اور فراغت کے بعد کرنے کا کام
اللہ کے رسول ﷺ غارِ حرا میں ذکر الٰہی، قوم کے بگاڑ کے اسباب اور کائنات کے مظاہر پر غور وفکر فرماتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے لوگوں کی رشد وہدایت کی دعا فرماتے تھے۔اسی معمول کو سیرت نگار تَحَنُّث کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ تَحَنُّث دراصل ایک روحانی کیفیت کا نام ہے جس میں کچھ عرصے کے لیے انسان گوشہ نشینی اختیار کر کے ایک خاص قسم کی عبادت میں مصروف رہتاہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے بھی نبوت سے پہلے غار حرا کی تنہائیوں میں اس قسم کی گوشہ نشینی اختیار کی تھی۔ آپ ﷺ غار میں کئی کئی دن قیام فرماتے۔ انہی تنہائیوں میں اللہ کے رسول ﷺ کو نبوت سے سرفراز کیا گیا۔ یہاں سے فارغ ہو کر آپ ﷺ نے اسلام کی دعوت وتبلیغ کا کام شروع کیا اور تیئیس سالہ شبانہ روز کی مسلسل جد وجہد کے بعد اسلامی اصولوں پر مبنی ایک ایسی ریاست تشکیل دی جو قیامت تک کے لیے نمونہ ہے اور جس کا ایک ایک فرد قیمتی ہیرے کی مانند تھا۔
تنہائیوں میں انسان غور وفکر اور عبادت کے ذریعے اپنے خالق ومالک سے قریب ہوتا ہے اپنے نفس اور قلب کو پاک کرتا ہے اور تنہائیوں سے فراغت کے بعد سماج کی تطہیر وتعمیر کا کام کرتا ہے۔

(مضمون نگار مولانا آذاد نیشنل اردو یونیورسٹی،
مانو سے پی۔ایچ۔ڈی اسکالر ہیں )

اصحاب کہف نے اللہ کی خاطر سماج سے علحیدگی اختیار کی تھی جس کا مقصد یہ تھا کہ حالات صحیح اور سازگار ہونے پر وہ سماج سے پھر سے جڑ جائیں گے اور نوع انسانیت کے لیے نفع بخش ثابت ہوں گے اور اس گوشہ نشینی کے دوران اپنے معبودِ حقیقی سے تعلق کومضبوط کریں گے۔
جب کوئی کچھ عرصے کے لیے لوگوں سے الگ ہو کر اپنے خالق سے تعلق پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ خالق سے نہایت قریب ہو جاتا ہے۔ اس طرح کا تعلق پیدا کرنے کا آج ہمارے لیے سنہری موقع ہے



https://ift.tt/eA8V8J