بھٹکل (ہرپل نیوز) 25/مارچ: مکان کی چھت سے دو لڑکے گر کر جاں بحق ہونے کا واقعہ بھٹکل کار اسٹریٹ میں پیش آیا ۔ واقعہ میں جاں بحق ہونے والوں کی شناخت محمد فہد منیار (22) اور اس کا بھائی محمد انظف منیار (13)کی حیثیت سے کی گئی ہے۔گمان کیا جا رہا ہے کہ دونوں بھائی شہر میں لا ک ڈاون کی وجہ سے باہر کھیلنے نہ جا کر گھر کی چھت پر ہی کھیل رہے تھے اس بیچ یہ واقعہ پیش آیا ۔ اہل خانہ نے واقعہ کے متعلق بتایا کہ ایک بھائی چھت سے گرتے ہوئے پاس سے گزرنے والی بجلی کی تار کو پکڑ لیا جس کو دیکھ کر بھائی کو بچانے کے لئے دوسرے بھائی آگے بڑھ گئے اور نتیجہ کے طور پر دونوں الیکٹرک شاک کی زد میں آ گئے . دونوں کو فوری ہاسپٹل منتقل کیا گیا لیکن ایک کی موت وااقع ہو گئی اور چھوٹے بھائی انظف کواڈپی منتقل کیا گیا جہاں اس نے دم توڑ دیا۔ دونوں کی لاشوں کو ضروری کارروائی کے بعد لواحقین کے حوالے کیا گیا ۔ بھٹکل پولیس نے معاملہ درج کرلیا ہے ۔ تحقیقات کی جا رہی ہیں
بتایا گیا ہے کہ فہد کے والد لمبے عرصے سے وجے واڑہ میں بر سر روزگار ہیں اور اسی کہ وجہ سے ان کا بیٹا فہد بھی وہیں پر ملازمت کرتا تھا اورقریب دو ماہ قبل ہی وہ بھٹکل آیا تھا، واپس جانے والا تھا مگر کوروناسے مچی ہوئی دہشت کے بعد نہیں جاسکا تھا۔بھٹکل میں کار اسٹریٹ میں کرایہ کے مکان میں یہ لوگ رہتے تھے۔جہاں یہ حادثہ پیش آیا ۔فہد کے بھائی محمد انظف کے تعلق سے معلوم ہوا ہے کہ وہ نونہال سینٹرل اسکول میں نو یں جماعت کا طالب علم تھا  جس کی موت پر نونہال سینٹرل اسکول نے سخت افسوس کا اظہارکا کرتے ہوئے تعریت نامہ شائع کیا ہے  ۔

انظف منیار بڑے ہونہار، سلیقہ مند، شریف النفس اور بڑے ہی دلچسپ طالب علم تھے۔ نویں جماعت میں داخل تھے۔ اساتذہ اور ٹیچرس کے منظور نظر تھے۔ درجہ کے تمام ساتھیوں کے چہیتے اور ہر دلعزیز تھے۔ انظف کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ جب بھی کسی سے ملتے خندہ پیشانی سے ملتے۔ کسی کو تکلیف دینا، ستانا، چٹکی لینا، مذاق اڑانا آج کل عام ہے، مگر انظف اس طرح کی بے ہودہ چیزوں سے دور بلکہ متنفر تھے۔پڑھنے کے بے انتہا شوقین تھے۔ ایک استاد نے بتایا کہ چند دنوں میں کئی کئی کتابیں پڑھ لی تھیں۔ لگتا تھا یہ لڑکا ایک دن ترقی کے مدارج طے کر کے صرف والدین ہی نہیں بلکہ پوری قوم کا نام روشن کرے گا۔ لیکن اس کا رزق، اس کی سانسیں اور اس کی عمر اللہ کے حکم سے یہیں تک لکھی تھی۔ موت ہر شاہ و گدا، مردو عورت، بوڑھے ، بچے اور جوان کو نگل لیتی ہے۔ وہ ظالم کہاں دیکھتی ہے کہ یہ لڑکا مستقبل میں قوم کا نام روشن کرنے والا ہے۔ مگر !!! موت سے کس کو دستگاری ہے ہمارے اس شاہین صفت طالب علم کو جنت الفردوس نصیب فرمائے۔ اس کے والدین اور اقارب کو صبر جمیل نصیب فرمائے

ایک ساتھ دو لڑکوں کی اچانک موت پر اہل خانہ سخت صدمے میں ہیں۔ اس بیچ سوشیل میڈیا پر گھروں سے بالکل متصل الیکٹرک تار کے سلسلے میں ہوے والی بے احتیاطی پر بحث کی جانے لگی ہے اور اس معاملے میں بجلی سپلائی کرنے والی کمپنی ہیسکام کو توجہ دلانے کی بات کی جا رہی ہے ۔ کل ملا کر واقعہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فلیئٹ میں رہنے والے حضرات یا اوپری منزل میں رہنے والے لوگ جنکے یہاں بچے ہیں وہ اس معاملے میں محتاط رہیں۔ کیونکہ اس سے پہلے بھی اس قسم کے واقعات رونما ہوئے ہیں مگر کسی کی جان جانے کا واقعہ اپنی نوعیت میں پہلی بار یپش آیا ہے ۔



https://ift.tt/eA8V8J