نئی دہلی: ہندوستان کے سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی کو صدر جمہوریہ ہند کے ذریعہ راجیہ سبھا کے لئے نامزد کئے جانے کے بعد عوام کے ذہن میں عدلیہ کے تئیں شکوک و شبہات نے جنم لیا ہے اور لوگوں کا عدلیہ پر اعتماد متزلزل ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے جو آنے والے وقت میں ملک کی جمہوریت کے لئے بہت خطرناک ثابت ہوگا۔ یہ کہنا ہے دہلی بار کونسل کے رکن اور دہلی وقف بورڈ کے ممبر ایڈوکیٹ حمال اختر کا۔

حمال اختر نے ذرائع ابلاغ کو جاری اپنے بیان میں کہاکہ ڈاکٹر امبیڈ کر کے بنائے گئے آئن کے مطابق جمہوریت کے تین اہم ستون ہیں،مقننہ،انتظامیہ اور عدلیہ۔ حمال اختر نے کہاکہ مقننہ کو اگر چہ قوانین بنانے کا اختیار ہے مگر ان قوانین کو آئن ہند کی روح کے مطابق پرکھنے کا کام عدلیہ کرتی ہے اور عدلیہ کی وجہ سے ہی عوام کا ملک کی جمہوریت پر اعتماد باقی ہے، اگر حکومتیں قوانین بنانے میں اپنی من مانی کرنے لگیں تو پھر عدلیہ ہی آگے بڑھکر حکومتوں کو بے لگام ہونے سے بچاتی ہے اور عوام کے جمہوری حقوق کی حفاظت کرتی ہے۔ اس لئے اگر عدلیہ پر عوام کے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا ہونے لگیں تو یہ ملک کی جمہوریت کے لئے انتہائی خطرناک رجحان ہوگا۔

حمال اختر نے مزید کہاکہ ذرائع ابلاغ کو عوام کی آواز اٹھانے کی آزادی ہے اور وہ آئن ہند کے تینوں ستونوں پر نظر رکھنے کا کام کرتے ہیں اس لئے ذرائع ابلاغ کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہاجاتا ہے لیکن آج ہمارے ملک میں آزاد ذرائع ابلاغ کا کردار سمٹ کر بہت کم ہوگیاہے اورسرمایہ کاروں کی میڈیا ہاؤسوں پر دسترس کی وجہ سے حکومتیں بہت حد تک میڈیا پر قدغن لگانے اور عوام کی آواز کو دبانے میں کامیاب ہوگئیں ہیں تاہم عدلیہ پر عوام کا یقین آج بھی زندہ ہے اور جب بھی عوام کے حقوق پر کوئی ضروب پڑتی ہے تولوگ عدلیہ کی طرف ہی امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں مگر سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی کو راجیہ سبھا کے لئے نامزد کئے جانے کے بعد سے عدلیہ پر بھی لوگوں کو انگشت نمائی کرنے کا موقع ہاتھ آگیا ہے جو جمہوریت کی روح کے لئے خطرناک رجحان ہے۔

حمال اختر نے آگے کہاکہ اگرچہ آئن کے آرٹیکل 80کے تحت صدر جمہوریہ ہند کو مرکزی حکومت کی سفارش پر کسی ایسے شخص کوجس کی آرٹ،لٹریچریاکلچرکے میدان میں قابل قدر خدمات رہی ہوں اسے راجیہ سبھا کے لئے نامزد کر سکتا ہے مگر جسٹس رنجن گوگوئی کے معاملہ میں اس بات کو نظر انداز کیا گیاہے۔حمال اختر نے مزید کہاکہ جسٹس رنجن گوگوئی نے ایک سال قبل ہی اپنے ایک فیصلہ میں کہا تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ججوں کی کسی اہم عہدہ پر تقرری عدلیہ کے لئے ایک دھبہ ہے ایسے میں یہ سؤال اٹھنا لازمی ہے کہ اتنی جلدی ایسا کیا ہوگیا کہ وہ اپنے ہی فیصلہ کو بھول گئے جبکہ انھیں ریٹائر ہوئے چار ماہ ہی ہوئے ہیں۔

حمال اختر نے آگے کہاکہ جسٹس گوگوئی کی نامزدگی اس لئے بھی ماہرین قانون اور جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کے حلق سے نہیں اتر رہی ہے کیونکہ ا نہوں نے اپنے چیف جسٹس رہنے کے دوران کئی بہت اہم اورمتنازعہ فیصلے دئے ہیں جن سے کہیں نہ کہیں مرکزی حکومت کو فائدہ پہونچا ہے ایسے میں انصاف پسند عوام کے ذہن میں یہ سؤال ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے یہ کہیں انعام تو نہیں؟حمال اختر کے مطابق ماضی میں بھی عدلیہ سے وابستہ افراد نے میدان سیاست میں قدم رکھا ہے تاہم انہوں نے پہلے پارٹی جوائن کی اس کے بعد انتخابی سیاست کے میدان میں قدم رکھامگر جسٹس گوگوئی عدلیہ کے سب سے باوقار عہدہ پر رہے ہیں اور اب انھیں ایک ایسی پارٹی کی سفارش پر صدر جمہوریہ ہندنے راجیہ سبھا بھیج دیا ہے جو جمہوری روایات اور آئن کی بالادستی پر یقین نہیں رکھتی اس لئے مناسب تو یہ تھا کہ گوگوئی صاحب اس پیش کش کو مسترد کردیتے لیکن انہوں نے ایسا نہ کرکے عدلیہ پر عوام کے اعتماد کو نہ صرف ٹھیس پہونچائی ہے بلکہ عدلیہ پر عوام کے اعتماد کو متزلزل کرنے کا کام کیا ہے جو جمہوری اقدار و رویات کے لئے مستقبل میں خطرناک رجحان ثابت ہوگا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/2xdJLK0