نئی دہلی، فروری 13: الجزیرہ کی خبر کے مطابق سیئٹل سٹی کونسل کے بعد میساچوسٹس ریاست کا کیمبرج ریاستہائے متحدہ کا دوسرا شہر ہے جس نے متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف قرارداد پاس کی ہے۔

کیمبرج میں دنیا کی مشہور ہارورڈ یونی ورسٹی اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (MIT) موجود ہے۔

یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 24 اور 25 فروری کو ہندوستان کے دورے سے ایک ہفتہ قبل کیا گیا ہے۔

کیمبرج کی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ "مودی سرکار کی نسل پرستانہ اور جابرانہ پالیسیاں شہر کی اقدار سے متصادم تھیں جو جنوبی ایشیائی برادریوں کی تمام ذاتوں اور مذاہب کا خیرمقدم کرتی ہے”۔

قرارداد میں اپنے کانگریس کے وفد پر زور دیا گیا کہ وہ اس طرح کی پالیسیاں نافذ کرنے والے ہندوستان کو سنسر کرنے والی امریکی کانگریس میں قانون سازی کی حمایت کرے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے "یہ شہری کونسل کی توجہ میں آیا ہے کہ 11 دسمبر 2019 کو ہندوستانی پارلیمنٹ نے شہریت ترمیمی قانون منظور کیا جو پہلی بار مذہب کو ہندوستانی شہریت کے معیار کے طور پر استعمال کرتا ہے”۔

یہ قانون پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے غیر مسلم اقلیتوں کو شہریت فراہم کرتا ہے جو دسمبر 2014 سے قبل ہندوستان میں داخل ہوئے تھے۔ لیکن اس قانون سے ہندوستانی آئین کی خلاف ورزی ہوتی ہے جو مذہب کی بنیاد پر لوگوں میں امتیازی سلوک نہیں کرتا ہے۔ سپریم کورٹ میں پہلے ہی اس کے خلاف درجنوں درخواستیں دائر کی گئیں ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ اس سے آئین کے سیکولر اصولوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

ملک بھر میں 150 سے زیادہ مقامات پر مسلمان 55 دن سے زیادہ عرصے سے اس قانون کے خلاف احتجاج پر بیٹھے ہیں اور اس قانون کی منسوخی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

مضمون ’’ ریاستہاے متحدہ امریکہ کے ایک اور شہر نے سی اے اے کے خلاف قرارداد منظور کی ‘‘ سب سے پہلے دعوت نیوز پر شائع ہوا۔



https://ift.tt/37tjtjg