بنگلورو، فروری 13— کرناٹک ہائی کورٹ نے جمعرات کو سی اے اے مخالف مظاہرے کے سے پہلے ہی گزشتہ ماہ 18 دسمبر کو دفعہ 144 کے تحت بنگلور میں عائد ممنوعہ احکام کو "غیر قانونی” قرار دیا۔ ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا کہ یہ احکامات "قانون کو برتر نہیں کرسکتے ہیں”۔

لائیو لا ڈاٹ اِن کے مطابق چیف جسٹس اے ایس اوکا کی سربراہی میں ہائی کورٹ بنچ نے کانگریس کے راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ راجیو گوڑا، کانگریس کے ایم ایل اے سوومیا ریڈی اور کچھ شہریوں کی طرف سے دائر درخواستوں پر یہ مشاہدہ کیا۔

18 دسمبر کو بنگلورو پولیس کمشنر نے تمام عوامی ریلیوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے دفعہ 144 نافذ کردی تھی جو کہ 19 دسمبر کو ہونے والی شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف ہونے والی تھی۔ حالانکہ منتظمین نے ان جلسوں کے لیے پیشگی اجازت لی تھی۔

ہائی کورٹ نے کہا کہ ہمیں احتجاج کے موضوع سے کوئی سروکار نہیں ہے، ہماری تشویش فیصلہ سازی کے عمل کے بارے میں ہے جو بلا شبہ بنیادی حقوق کو کم کرتی ہے۔ یہ واقعی ایک بچاؤ اقدام ہے۔ اس روک تھام کے اقدامات سے شہریوں کے بنیادی حقوق میں کمی لائی جاسکتی ہے۔

11 دسمبر کو پارلیمنٹ کے ذریعہ CAA کی منظوری کے تناظر میں کرناٹک سمیت پورے ملک میں بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ بنگلورو، منگلور اور دیگر مقامات پر احتجاج کیا گیا۔ منگلور میں پولیس کی فائرنگ سے دو مظاہرین ہلاک بھی ہوگئے تھے۔

مضمون ’’ دسمبر میں بنگلورو میں سی اے اے مخالف احتجاج سے پہلے دفعہ 144 نافذ کرنا غیر قانونی تھا: ہائی کورٹ ‘‘ سب سے پہلے دعوت نیوز پر شائع ہوا۔



https://ift.tt/eA8V8J